16 مئی 2011 - 19:30

مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے مرکزی ڈپٹی سیکرٹری جنرل علامہ محمد امین شہیدی نے کہا ہے کہ بحرین کے دارالحکومت مناما کے علاقہ دراز میں آل سعود اور آل خلیفہ کی فورسز کا مسجد الامام الصادق پر حملہ اور مسجد کی توڑ پھوڑ و بے حرمتی کا سنگین واقعہ بنیادی انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے جس پر پوری ملت اسلامیہ سراپائے احتجاج ہے۔

ابنا: انھوں نے کہا ہے کہ اگر مساجد کی بے حرمتی ، توڑ پھوڑ اور قرآن پاک جلانے کے واقعات کاسلسلہ نہ روکا گیا تو تو پوری دنیا میں اس کا شدید رد عمل سامنے آئے گا، عالمی عدالت انصاف اس واقعہ کا فوری نوٹس لے ۔مجلس وحدت مسلمین کے مرکزی دفتر سے جاری ہونے والے پریس ریلیز میں انہوں نے کہا کہ مسلمان اپنے مقدسات پر کسی بھی صورت میں حملے برداشت نہیں کر سکتے، مسجد اور دیگر عبادت گاہوں پر حملہ کرنا ناقابل معافی جرم ہے ، یہ بات انتہائی افسوسناک ہے کہ ایک اسلامی ملک میں مساجد اوردیگر عبادت گاہوں کی بے حرمتی کر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح کیے جار ہے ہیں  ۔ علامہ امین شہیدی نے کہا کہ مسجد الامام الصادق منامہ پر ہونے والا حملہ بحرین میں ڈکٹیٹر شپ اور بیرونی مداخلت کا نتیجہ ہے اگر آل خلیفہ کو امریکہ اور آل سعود کی حمایت حاصل نہ ہوتی تو وہ کبھی بھی مسجد پر حملہ آور ہونے کی جرات نہ کرتے ، اس جرم میں امریکہ پوری طرح ملوث ہے انہوں نے کہ بحرین کے بزرگ عالم دین آیت اللہ شیخ عیسیٰ قاسم ملت اسلامیہ کی انتہائی محترم شخصیت اور بحرینی عوام کے دلوں کی آواز ہیں اور نہ صرف بحرینی عوام ان کی لیڈر شپ میں پوری طرح منظم اور متحد ہیں بلکہ پورے عالم اسلام کے علماء ان کا دل سے احترام کرتے ہیں ، آل خلیفہ نے ان کی مسجد پر حملہ کر کے انتہائی خطر ناک اقدام اٹھایا اور انہیں اس خمیازہ بھگتنا پڑے گا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔/110

اہم: اس پٹیشن کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لئے 10 لاکھ ووٹوں کی ضرورت ہے مگر کیا کیا جائے کہ ابھی تک چالیس ہزار افراد نے بھی ووٹ نہیں دیا۔ فارورڈ کریں امام زمانہ (عج) کے صدقے۔ پلیز

 بحرین میں مظالم روکنے کےلئے صرف دس لاکھ ووٹوں کی ضرورت